
دریا کے پانی پر
Lyrics
دریا کے پانی پر شاعری
دریا کے پانی پر شاعری مت لکھنا...
جس کے لیے لکھتے ہو، شاید اُسے احساس ہی نہ ہو...
یہ لہریں بھی خاموش ہیں، یہ ساحل بھی اداس،
میرے دل کی صدا شاید، اُس تک کبھی نہ پہنچے۔
میں نے تیرے نام کی خوشبو، ہر موسم میں بسائی تھی،
ہر دعا میں تیری ہنسی، اپنی قسمت بنائی تھی۔
چاند سے مانگی تھیں راتیں، تاروں سے تیری باتیں،
پر قسمت کی راہوں نے، سب خواب چرا لیے۔
تو شاید مسکرا رہی ہو، کسی اور آسمان تلے،
میں آج بھی تیرے وعدوں کی، ٹوٹی روشنی سمیٹتا ہوں۔
دریا کے پانی پر شاعری مت لکھنا...
جس کے لیے لکھتے ہو، شاید اُسے احساس ہی نہ ہو...
دل اگر سچا بھی ہو، ہر دل اسے سمجھتا نہیں،
عشق اگر دریا بھی ہو، ہر کوئی اس میں اترتا نہیں۔
رات نے جب آنکھ کھولی، تیرا ہی نام لیا،
ہوا نے میرے زخموں کو، پھر آہستہ سے چُھو لیا۔
ہر قدم پر تیرا سایہ، ہر نظر میں تیری تصویر،
تو سامنے نہ تھی لیکن، دل نے تجھے کھویا نہیں۔
میں نے اپنے خوابوں کی شمع، تیرے در پر جلائی تھی،
ہوا نے ایک لمحے میں، ساری روشنی بجھا دی۔
کہتے ہیں محبت میں، سب کچھ بھول جانا آسان ہے،
مگر کوئی یہ بھی بتائے، دل کو کیسے سمجھایا جائے؟
جو نام دھڑکن بن جائے، وہ کیسے بھلایا جائے؟
جو روح میں بس جائے، وہ کیسے مٹایا جائے؟
اگر کبھی تنہا بیٹھو، اور بارش خاموش برسے،
میرے لفظوں کی خوشبو شاید، تیرے دل تک پہنچ جائے۔
اگر کبھی چاند اداس لگے، اور رات لمبی ہو جائے،
سمجھ لینا کوئی اب بھی، تیرے لیے جاگتا ہوگا۔
میں نے ہر آنسو کو، دعا بنا کر رکھا ہے،
شاید کسی دن قسمت بھی، میرا پتہ پوچھے۔
دریا کے پانی پر شاعری مت لکھنا...
جس کے لیے لکھتے ہو، شاید اُسے احساس ہی نہ ہو...
موجیں حرف مٹا دیتی ہیں، وقت خواب چرا لیتا ہے،
پر سچا عشق کبھی بھی، دل سے جدا نہیں ہوتا۔
اگر تو لوٹ آئے کبھی، میں گلہ نہیں کروں گا،
وقت کے سارے فاصلے، خاموشی سے مٹا دوں گا۔
اگر نہ آئی تو بھی، تیرا نام دعا رہے گا،
میری ہر سانس کے آخر میں، صرف تیرا ذکر رہے گا۔
یہ دریا بھی گواہ ہوگا، یہ چاند بھی سن لے گا،
میں نے تجھ سے محبت کی تھی، صرف محبت... کوئی سودا نہیں۔
دریا کے پانی پر شاعری مت لکھنا...
جس کے لیے لکھتے ہو، شاید اُسے احساس ہی نہ ہو...
پھر بھی میں لکھتا رہوں گا...
شاید کسی دن...
کسی خاموش لمحے میں...
تیرا دل بھی میری طرح دھڑک اٹھے...