موسم ۔۔ گز گیا ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

موسم ۔۔ گز گیا ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Rock song · 5:59 · 9 plays

Lyrics

وہ موسم گزر گیا

کھڑکی کے شیشے پر
بارش کی چند لکیریں تھیں
اور میز پر
ایک خالی کپ رکھا تھا

میں دیر تک
اُس کپ کو دیکھتا رہا
جیسے اُس میں
کوئی ادھوری بات رہ گئی ہو

کمرے کی گھڑی
اپنی رفتار سے چلتی رہی
مگر میرے لیے
ایک لمحہ وہیں ٹھہرا رہا

میں نے پردہ ہٹایا
تو باہر
درختوں کی شاخیں بھیگ رہی تھیں
اور مجھے پہلی بار
اپنا ہی شہر اجنبی سا لگا

میں نے دل کو سمجھایا
جو چلا گیا
اُسے جانے دے

مگر دل نے کہا
کچھ رشتے
راستوں سے نہیں
اندر سے رخصت ہوتے ہیں

---

تیری ہنسی کا ذکر
اب کوئی نہیں کرتا
مگر کبھی اچانک
کسی اجنبی کی آواز میں
وہی لہجہ سنائی دے جاتا ہے

میں پلٹ کر دیکھتا ہوں
پھر خود ہی مسکرا دیتا ہوں
کہ ہر آواز
تیری نہیں ہو سکتی

کچھ چیزیں
ہم اپنے پاس نہیں رکھتے
پھر بھی وہ
ہم سے جدا نہیں ہوتیں

ایک پرانی کتاب میں
سوکھا ہوا ورق ملا
نہ اُس پر کوئی تحریر تھی
نہ کوئی نشان

پھر بھی جانے کیوں
میرا ہاتھ
وہیں رک گیا

---

میں نے وقت کے ساتھ
اپنی عادتیں بدل لیں
صبحیں نئی ہو گئیں
شامیں بھی بدل گئیں

اب میں
کسی آہٹ پر نہیں چونکتا
کسی راستے کو
کسی کے قدموں سے نہیں ملاتا

مگر یہ دل بھی عجیب ہے
کبھی بے سبب
ایک ہی جگہ رک جاتا ہے
اور مجھے یاد دلاتا ہے

کہ فاصلے بڑھ جانے سے
احساس ختم نہیں ہوتے
وہ بس
اپنی آواز بدل لیتے ہیں

---

اگر کبھی
وہ موسم دوبارہ آئے
تو شاید
میں اسے پہچان بھی نہ سکوں

بارش ویسی ہی ہوگی
ہوا بھی وہی ہوگی
درخت بھی
اپنی جگہ کھڑے ہوں گے

فرق صرف اتنا ہوگا
کہ میں
پہلے جیسا نہیں رہوں گا

میں نے سمجھ لیا ہے
ہر تعلق کا انجام
ملاقات نہیں ہوتا

کچھ لوگ
زندگی میں آتے ہیں
تاکہ ہمیں
اپنے اندر کے ایک حصے سے
ملا کر چلے جائیں

---

اور اگر
کبھی میرا ذکر ہو

تو اتنا کہنا
وہ شخص
جو بہت کچھ کہنا چاہتا تھا

آخرکار
خاموش نہیں ہوا

بس اُس نے
اپنی باتیں
لفظوں کے بجائے
زندگی میں رکھ دیں

اور پھر
چلتا رہا...

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI