تم نے نہ پوچھا ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔ cover art

تم نے نہ پوچھا ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 5:03 · 6 plays

Lyrics

تم نے نہ پوچھا...
اور میں نے صبر کی دہلیز پر سجدہ کر دیا
خاموشیوں کے آئینے میں، دل نے خود کو دیکھ لیا
جہاں اندھیروں نے بسیرا کیا، وہاں تیرا نام چمک اٹھا
اور میری بےنام راتوں میں ایک نیا آسمان اتر آیا

ہوا کے ہاتھ میں جب خوشبو کی تلوار آئی
تب میری روح کے صحرا میں بہار کی دیوار آئی
میں نے زخموں کو بھی ریشم کی طرح سنوارا
اور وقت کی گرد سے بھی، تیری یاد کو نہ اتارا

تم نے نہ پوچھا، پھر بھی دل تیرا منتظر رہا
ہجر کی راہوں میں بھی، عشق میرا معتبر رہا

تیری یاد کا چراغ، روح میں جلتا رہا
ٹوٹ کر بھی یہ دل، تیرا ہی بنتا رہا

تم نے نہ پوچھا، پھر بھی صدا تیری رہی
میری ہر خاموشی میں، بس وفا تیری رہی

ستاروں نے بھی میری تنہائی کا تاج دیکھا
چاند نے میرے دل میں چھپا ایک راز دیکھا
میں نے لفظوں کو دعا کی طرح لبوں پر رکھا
اور ہر ٹوٹے ہوئے لمحے کو محبت میں چن لیا

یہ عشق نہیں، کوئی دربارِ نور کا قصہ ہے
یہ دل نہیں، کوئی جلتا ہوا چراغِ صحرا ہے
میں تیری یاد کے سائے میں بھی کامل رہا
اور ہجر کی آگ میں بھی، میں گویا محفل رہا

تم نے نہ پوچھا، پھر بھی دل تیرا منتظر رہا
ہجر کی راہوں میں بھی، عشق میرا معتبر رہا

تیری یاد کا چراغ، روح میں جلتا رہا
ٹوٹ کر بھی یہ دل، تیرا ہی بنتا رہا

تم نے نہ پوچھا، پھر بھی صدا تیری رہی
میری ہر خاموشی میں، بس وفا تیری رہی

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI