آخری ۔۔ ورق ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

آخری ۔۔ ورق ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 4:43 · 16 plays

Lyrics

آخری ورق

یہ آخری ورق تھا...
جس پر ہماری چاہت کی پوری کہانی ٹھہری ہوئی تھی،
ہر سطر میں اک دھڑکن،
ہر لفظ میں اک مسکان،
ہر خاموش لمحہ
جیسے صدیوں کی امانت بن کر سویا ہوا تھا۔

میں نے اسے سینے سے لگا کر رکھا،
کہ کہیں وقت کی آندھی
اس کا وجود نہ چرا لے،
مگر موسم نے میری التجا نہ سنی،
اور اک لمحے میں
وہ میری ہتھیلی سے پھسل گیا۔

ہوا نے اسے آہستہ آہستہ اٹھایا،
اور دور افق کی جانب لے گئی،
میں دیر تک دیکھتا رہا،
جیسے میری سانس بھی
اسی کے ساتھ سفر پر نکل گئی ہو۔

وہ ورق کوئی عام ورق نہ تھا،
اس پر پہلی مسکراہٹ بھی تھی،
پہلی خاموش نگاہ بھی،
پہلی دھڑکن بھی،
اور وہ سارے لمحے
جنہیں لفظوں نے ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لیا تھا۔

اب جب بھی تنہائی
میرے در پر آ کر بیٹھتی ہے،
میں بند آنکھوں سے
اسی ورق کو تلاش کرتا ہوں،
شاید کسی گوشے میں
اب بھی میرا نام باقی ہو،
شاید کسی سطر میں
اب بھی تیری خوشبو ٹھہری ہو۔

ہوا سنو...
اگر کبھی وہ ورق
تمہارے دامن میں اتر آئے،
تو اسے سنبھال لینا،
اس کے کناروں پر
میرے وجود کی نمی باقی ہوگی،
اور اس کی روشنائی میں
میرے دل کی صدا چھپی ہوگی۔

وہ ورق اگر پلٹنا،
تو آہستہ پلٹنا...
کہیں ایسا نہ ہو
کوئی پرانا احساس
پھر سے سانس لینے لگے،
اور برسوں سے سوئی ہوئی
محبت جاگ اٹھے۔

میری کہانی ختم نہیں ہوئی،
صرف اس کا ورق بچھڑ گیا،
لفظ آج بھی زندہ ہیں،
احساس آج بھی زندہ ہیں،
اور دل آج بھی
اسی ادھوری تحریر کا امین ہے۔

اگر زمانہ پوچھے
محبت کی آخری نشانی کیا تھی،
تو میرا نام نہ لینا،
بس اتنا کہنا...
ایک ورق تھا،
جس پر کسی نے
اپنی پوری زندگی لکھ دی تھی،
اور پھر ہوا
اسے اپنے ساتھ لے گئی۔

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI