فنا کیا۔ روشنی ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

فنا کیا۔ روشنی ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 7:59 · 5 plays

Lyrics

---

## **فنا کی روشنی**

رات کے پردے میں جب خامشی اتر آئی
دل کی ویران گلی پھر سے سنور آئی
میں نے سمجھا تھا کہ بس درد ہی رہ جائے گا
پر اسی درد سے اک راہِ سحر کھل آئی

پہلے پہل جدائی نے مجھے خاموش کیا
میرے لبوں پہ مگر ذکر نے آغاز کیا
تیری دوری کے اندھیروں میں بھی دیکھا تو نے
ہر شکستہ دل کو یوں جیسے نیا راز دیا

بوند بوند اترتی رہی شبنمِ یادِ تو
اور ہواؤں میں بکھرتی رہی خوشبوئے ہو
میں نے جب اپنے ہی سائے سے سوال کیا
تو ہر اک سِلَوت نے تیرا ہی جواب دیا

تو نہ تھا، پھر بھی تو تھا
میرے دل کے اندر جاگتا تو تھا
درد، فراق، حجاب سب سچ تھے مگر
ہر اندھیرے میں بھی روشن، تو تھا

میں نے رو کر بھی ترے نام کو کم نہ کیا
دل نے ہار کے بھی تری چاہ کو کم نہ کیا
اور جب آنسو مرے رخسار پہ موتی بنے
تب سمجھ آیا یہ غم بھی کوئی انعام بنے

فاصلہ اصل میں اک در ہے، سفر ہے کوئی
جو جلایا گیا، وہی پھر سے گہر ہے کوئی
میں نے ٹوٹ کر بھی جو خود کو سنبھالا تو یہ
تیرے ہونے کا ہی اندر سے اثر ہے کوئی

تو نہ تھا، پھر بھی تو تھا
میرے دل کے اندر جاگتا تو تھا
درد، فراق، حجاب سب سچ تھے مگر
ہر اندھیرے میں بھی روشن، تو تھا

اب نہ شکوہ ہے نہ حسرت کے پرانے موسم
اب تو آنکھوں میں ٹھہرنے لگے خاموش سپن
میں نے ویرانی میں بھی تیرا ہی چہرہ دیکھا
اور خلا میں بھی محبت کا نیا رنگ سنا

جو بچھڑ کر بھی دلوں میں اتر جاتا ہے
وہی سچا سا سفر، عشق کہلاتا ہے
جو فنا میں بھی وفا کی طرح باقی رہے
اسی جذبے کو زمانہ کبھی پا نہیں سکے

تو نہ تھا، پھر بھی تو تھا
میرے دل کے اندر جاگتا تو تھا
درد، فراق، حجاب سب سچ تھے مگر
ہر اندھیرے میں بھی روشن، تو تھا

اب یہی دل تری آمد کی دعا مانگتا ہے
ہر سکوت اپنی صدا میں ترا نام مانگتا ہے
میں نے کھو کر تجھے پایا ہے، یہی راز رہا
فاصلہ بھی تری قربت کا دروازہ رہا

آخرِ شب میری تقدیر نے یہ بات لکھی
درد کے پار بھی تیری ہی ضیا باقی تھی
میں نے جب آنکھ اٹھا کر تری سمت پکارا
تو فنا میں بھی مجھے تیری بقا باقی تھی

تو نہ تھا، پھر بھی تو تھا
میرے دل کے اندر جاگتا تو تھا…

--

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI