مقدر.. شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

مقدر.. شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Rock song · 6:37 · 5 plays

Lyrics

جب شام کے سائے دل پر اترنے لگتے ہیں
خاموش لمحے بھی تیرا نام دھرتے ہیں
میں نے بہت چاہا کہ بھول جاؤں تجھے
مگر یہ زخم ہر بار نئے رنگ بھرتے ہیں

میں بھی اندھیروں میں تیری روشنی ڈھونڈتی ہوں
بکھرے ہوئے خوابوں میں تیری ہی خوشبو چنتی ہوں
جو لفظ کبھی ہم نے ہنستے ہوئے کہے تھے
انہی لفظوں کو آج بھی میں دل میں سنتی ہوں

تیری جدائی نے مجھے اور بھی نکھارا ہے
درد نے ہر اک شعر مرا سنوارا ہے
پہلے محبت ایک خواب لگتی تھی
اب یہ خواب ہی میرا واحد سہارا ہے

میں نے بھی وقت کے ہاتھوں کو روکا نہیں
دل کے صحیفے سے تیرا نام دھویا نہیں
ہر زخم کے ساتھ تیری یاد جڑی رہی
میں نے اس درد کو کبھی اپنا دشمن کہا نہیں

اگر کبھی لوٹ آئے وہی پرانا منظر
وہی چاند، وہی رات، وہی بےتاب سا منظر
تو میں پھر سے تجھے دل میں اتار لوں گا
جیسے صحرا میں اتر آئے کوئی خاموش سا منظر

اور میں بھی اس گھڑی کی منتظر رہوں گی
خامشی کے بیچ تیری ہمسفر رہوں گی
جو فاصلے آج ہمارے بیچ دیوار بنے ہیں
انہیں تیری ایک نظر سے بےاثر رہوں گی

یہ عشق اگرچہ وقت کے ہاتھوں زخمیدہ ہے
مگر ہر حال میں دل میں ابھی زندہ ہے
میں نے تقدیر سے لڑ کر یہ جانا ہے
کہ سچی محبت کا رشتہ کبھی شرمندہ ہے

میں نے بھی دل کے شہر میں چراغ جلائے ہیں
یادوں کے موسم میں کئی رنگ سجائے ہیں
اگرچہ ہم جدا ہیں آج زمانے کے سبب
مگر دعا کے سب راستے تجھ تک ہی آئے ہیں

تو یاد آتا ہے، بہت یاد آتا ہے
ہر ایک دھڑکن میں تیری صدا آتا ہے
ہم بچھڑ کے بھی بچھڑ نہ سکے دل سے
یہی عشق ہمیں پھر سے ملا جاتا ہے

نہ پوچھو دل پہ کیا کچھ گزر گئی ہوگی
ہر رات ایک صدی کی طرح ٹھہر گئی ہوگی
مگر میں آج بھی اسی یقین کے ساتھ زندہ ہوں
کہ محبت آخرکار اپنے گھر گئی ہوگی

میں بھی اسی یقین کے ساتھ دعا کرتی ہوں
ہر پل تیری سلامتی کی صدا کرتی ہوں
اگر مقدر نے دوبارہ لکھا کوئی ملاپ
تو میں پھر سے تجھے اپنا خدا کرتی ہوں

ہم تھے ایک خواب، ایک نام، ایک سفر
اب بھی دلوں میں باقی ہے وہی پرانا اثر
فاصلہ جسموں کا تھا، روحیں تو ساتھ تھیں
محبت نے ہمیشہ رکھا ہمیں ایک ہی نگر

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI