
دوباره شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔
Lyrics
**نئی روشنی**
صبح ابھی پوری نہیں آئی
مگر اندھیرا
اپنی گرفت
آہستہ آہستہ چھوڑ رہا ہے۔
آسمان کے کنارے
ایک ہلکی سی لکیر
ایسی لگتی ہے
جیسے کسی نے
خاموشی کے کاغذ پر
پہلا لفظ لکھ دیا ہو۔
میں جاگ رہا ہوں،
لیکن یہ جاگنا
کل والی تھکن جیسا نہیں۔
اس میں کچھ نرمی ہے،
کچھ قبولیت،
اور کچھ ایسا
جو شاید امید کہلاتا ہے
مگر بہت آہستہ،
بہت بغیر شور کے۔
رات نے مجھ سے
بہت کچھ لیا،
مگر سب کچھ نہیں۔
اس نے مجھے
میری کمزوریاں دکھائیں،
میرے اندر کے
کھنڈر دکھائے،
میرے لفظوں کے
خالی خانے دکھائے۔
مگر ساتھ ہی
یہ بھی سکھایا
کہ انسان
اپنے ٹوٹنے سے
مکمل ختم نہیں ہوتا۔
کچھ چیزیں
صرف اس لیے رہ جاتی ہیں
تاکہ ہم
دوبارہ شروع کر سکیں۔
ایک سانس،
ایک دھڑکن،
ایک چھوٹی سی ہمت،
اور وہ لمحہ
جب انسان
اپنے ہی دل سے کہتا ہے:
“اب بھی وقت ہے۔”
میں نے بہت دیر
اپنے دکھ کو
اختتام سمجھا،
مگر شاید وہ
اختتام نہیں تھا۔
شاید وہ
ایک دروازہ تھا
جس کے پار
مجھے اپنا دوسرا چہرہ
دیکھنا تھا۔
وہ چہرہ
جو زخمی ہونے کے باوجود
نرم رہتا ہے،
اور گزرنے کے باوجود
کسی کو معاف کرنے کا
حوصلہ رکھتا ہے۔
روشنی
ہنگامہ کر کے نہیں آتی۔
وہ شور نہیں مچاتی۔
وہ آہستہ آتی ہے،
پتلی سی،
مگر کافی
کہ اندھیرے کی دیوار
پر ایک لکیر
کھینچ دے۔
اور پھر
اسی ایک لکیر سے
آہستہ آہستہ
دن بننے لگتا ہے۔
میں سوچتا ہوں،
شاید زندگی بھی
ایسی ہی ہے۔
نہ مکمل اندھیرا،
نہ مکمل روشنی۔
بس ایک مسلسل سفر،
جہاں آدمی
کبھی بوجھ سے جھکتا ہے
اور کبھی امید سے سیدھا ہوتا ہے۔
اور یہ دونوں
اس کے ہونے کی
علامت ہیں۔
میں نے آج
اپنے اندر
ایک چھوٹی سی جگہ
صاف کی ہے۔
جہاں میں
اپنی شکست
رکھ سکوں،
اپنی یاد
رکھ سکوں،
اور اپنی آنے والی
ہمت بھی۔
کیونکہ دل
تبھی سانس لیتا ہے
جب اسے
خالی ہونے کا
موقع ملتا ہے۔
اب افق روشن ہے۔
چراغ بجھ رہے ہیں،
مگر میرے اندر
ایک نیا چراغ
جلنے لگا ہے۔
ایسا چراغ
جس کی روشنی
شاید دور تک نہ جائے،
مگر اتنی ضرور ہے
کہ اپنے ہی راستے
کو دکھا سکے۔
اور یہی کافی ہے۔
کبھی کبھی
زندگی بچانے کے لیے
بس اتنی روشنی
ضروری ہوتی ہے
کہ انسان
اپنے قدموں کو
دوبارہ پہچان سکے۔
میں یہ روشنی
اپنے اندر رکھتا ہوں،
اور خاموشی سے
آگے چل پڑتا ہوں۔