وعدہ غیب ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

وعدہ غیب ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 5:52 · 12 plays

Lyrics

وعدۂ غیب

خاموش فضاؤں میں اک رازِ نہاں تھا
تقدیر کی لوحوں پہ اک نام لکھا تھا
سورج نہ تھا، سایہ نہ تھا، وقت نہ کوئی
بس روح کا روحوں سے اک رشتہ بنا تھا

میری نگاہوں نے تجھے کب سے پکارا
تیری نگاہوں نے مجھے چپکے سنبھالا
لفظوں سے پہلے دل نے پہچان لیا تھا
یہ عشق نہیں تھا... یہ ازل کا حوالہ

وعدۂ غیب تھا، دل کو یقیں تھا
تیرا مرا ملنا کہیں تو لکھا تھا
راہیں بدلیں، موسم بدلے، دنیا بدلی
لیکن محبت کا سفر وہیں رکا تھا

رات کی خامشی میں تیری آہٹ آئی
چاند بھی تیری چاہت میں اتر آیا
ہر قدم پر مجھے تیرا احساس ملا
ہر نظر میں ترا ہی عکس سجا

ہوا نے تیرے قصے میرے دل کو سنائے
بادل نے تیرے خواب میری آنکھ میں لائے
دریا نے بہتے بہتے مجھ سے یہی کہا
محبت کے مسافر کبھی بچھڑا نہیں کرتے

جب بھی ستاروں نے فلک پر روشنی لکھی
میں نے تری ہنسی کی صدا سن لی دل میں
جب بھی ہوا نے میرے چہرے کو چھوا
یوں لگا جیسے تو قریب آ کے ٹھہر گیا

تو میری خامشی کا سب سے حسین نغمہ
تو میری تنہائی کا پہلا سا اجالا
تو میری دھڑکن کا پہلا اعتبار
تو میری دنیا کا سب سے پیارا حوالہ

کتنے ہی موسم آئے اور گزر بھی گئے
کتنے ہی چہرے ملے اور بکھر بھی گئے
لیکن یہ دل تیرے سفر میں چلتا رہا
ہر سانس میں تیرا ہی چراغ جلتا رہا

مشرق سے نکلی کوئی امید کی کرن
مغرب نے اس کو بانہوں میں سجا لیا
دونوں کناروں نے جب ایک دوسرے کو چُھوا
دریا نے خوشی سے اپنا راستہ بدل لیا

تو دور بھی ہو تو قریب لگتا ہے
ہر خواب میں تیرا نصیب لگتا ہے
جس لمحے تیرا خیال دل میں اترے
وہ لمحہ میری زندگی کا عید لگتا ہے

...

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI