عشق ۔۔ محروم ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

عشق ۔۔ محروم ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 6:53 · 8 plays

Lyrics

عشقِ محروم

میں عشق کی کتاب کا تنہا عاشق ہوں
جس کے نصیب میں فقط محرومی لکھی گئی

سب کو ملا دیدارِ یار، سب کو ملا وصل کا موسم
میرے حصے میں بس خاموشی کی راتیں آئیں

سب نے سنی محبوب کی ہنستی ہوئی آواز
میں آج تک اُس کی صدا کا بھی محروم رہا

سب نے آنکھوں میں اپنے محبوب کا عکس بسایا
میری پلکوں نے فقط خوابوں کا دھواں دیکھا

سب کے نام خط آئے، سب کو پیغام ملے
میری قسمت کو کوئی سلام بھی نصیب نہ ہوا

سب نے ہاتھوں میں ہاتھ رکھ کر دعائیں مانگیں
میں ہوا سے بھی اُس کا لمس مانگتا رہا

میرا عشق نہ نزدیک، نہ آسان، نہ مکمل
یہ غیب کا سفر ہے، بے نام، بے صدا

ہر آرزو یہی تھی، اک لمحہ اُس کے ساتھ
ہر آرزو دروازے تک آئی، مگر لوٹ گئی

میں وہ مسافر ہوں جس کی منزل بھی وہی ہے
اور راستہ بھی اُسی کے نام پر ختم ہوتا ہے

عجیب قسمت ہے، میں عاشق بھی کہلاتا ہوں
مگر عشق کے ہر حق سے محروم ہوں

نہ دیدار، نہ گفتگو، نہ مسکراہٹ کا حصہ
بس دل ہے... جو ہر روز اُسی کا نام لیتا ہے

---

لوگ کہتے ہیں عشق میں وصل بھی آتا ہے
میرے نصیب میں فقط انتظار آیا

سب نے بہاروں کے موسم دیکھے
میرے حصے میں پت جھڑ کی ہوا آئی

سب کے دلوں میں امید کے چراغ روشن تھے
میرے چراغ کو خامشی نے ڈھانپ لیا

کسی کو محبوب کی محفل ملی
کسی کو ہنستی ہوئی شام ملی
میں دروازۂ آرزو پر کھڑا رہا
اور ہر بار محرومی میرے ساتھ چلی

میں نے چاند سے پوچھا، تیرا راستہ کہاں ہے؟
میں نے ہوا سے پوچھا، اُس کی خوشبو کہاں ہے؟
میں نے رات سے پوچھا، اُس کی صدا کہاں ہے؟
ہر جواب میں خاموشی ہی ملی

یہ کیسا عشق ہے، یہ کیسا سفر ہے
نہ منزل ملتی ہے، نہ خبر ملتی ہے
دل پھر بھی اُسی کا نام لیتا ہے
جس کی ایک جھلک بھی نصیب نہیں

---

اے عشق! تو سب کو عطا ہوا
مگر مجھ تک آ کر کیوں رک گیا؟

اے قسمت! تُو سب کے گھر خوشی لے گئی
میرے در پر خاموشی کیوں رکھ گئی؟

میں عشق کی بستی کا وہ تنہا مسافر ہوں
جو راستوں میں بھی محروم رہا

میری دعائیں بھی اُس تک نہ پہنچ سکیں
میری صدائیں بھی ہوا میں کھو گئیں

پھر بھی دل کہتا ہے، انتظار کر
شاید کسی دن کوئی کرم ہو جائے

شاید کوئی لمحہ ٹھہر جائے
شاید کوئی خواب حقیقت بن جائے

اور اگر ایسا نہ بھی ہوا
تو میرا نام یہی رہے گا:

وہ عاشق...
جو عشق کی کتاب میں آیا
مگر ہر باب سے محروم رہا

---

محروم رہا... محروم رہا...
دیدار سے محروم رہا

محروم رہا... محروم رہا...
اُس کی صدا سے محروم رہا

محروم رہا... محروم رہا...
ہر آرزو سے محروم رہا

میں عشق کی کتاب کا تنہا عاشق ہوں
جس کے نصیب میں فقط محرومی لکھی گئی...

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI