سفر ۔۔ خاموش لہریں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔ cover art

سفر ۔۔ خاموش لہریں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 5:58 · 8 plays

Lyrics

سفرِ خاموش لہریں

سمندرِ سحر کی موجوں پر، نورِ صبا نے دستک دی
خاموش فضاؤں میں جیسے، رحمت کی صدا نے دستک دی
ریل کی کھڑکی، رات کے آنسو، شیشے پہ لرزتے منظر
دور کسی ویران سفر میں، یادوں نے پھر سے دستک دی

اے دلِ بے قرار، سن لے یہ رازِ جاں
بحرِ سکوں میں چھپا ہے دردِ نہاں
ریل کی شبنم زدہ کھڑکیوں کے پار
ایک مدینۂ دور، ایک خوابِ عیاں

صبح کے ساحل پہ جب موج نے ماتھا ٹیکا
موتی سا چمکا افق، اور اندھیرا ہلکا ہوا
نمکین ہوا میں گھلی اک خاموش خوشبو
یوں لگا سمندر نے بھی کوئی راز سنا

رات کی ریل، بارش کا سنگِ در، شیشہ خراماں
قطرہ قطرہ دلِ مضطر پہ اترتی تھی فغاناں
پٹریوں کی صدا میں بھی ایک سازِ دروں
جیسے ہجر اپنے ہی قدموں سے چلا ہو آہستہ آہستہ

اوپر کسی ٹیلے سے جب دیکھی وہ بستیِ دور
روشنیوں کے ہالے میں لپٹی ہوئی چپ چاپ نور
گلیاں باریک، مکانوں پہ سکوتِ شب کا رنگ
یوں لگا جیسے کسی خاموش دعا کا رہ گیا ہو ظہور

آسمان پر ستارے نہیں، ذکر کے چراغ جلتے ہیں
ایک ایک کر کے دل کے اندھیرے سنبھلتے ہیں
چاند کے ماتھے پہ بھی جیسے درویشی کا نور
رات کے سینے میں قوالی کے بول پلتے ہیں

پرانے راستوں پر جب برسا ہوا پانی چمکا
ہر اینٹ کے چہرے پہ کوئی بھولا ہوا لمحہ جاگا
شبنم زدہ سڑک نے جیسے ہاتھ اٹھا کر کہا
جو کھو گیا، وہی تو آخر دل کے اندر بسا تھا

میں نے تیری صورت کا اک نقش بچا رکھا ہے
اپنی ویران کتاب میں اک صفحہ بچا رکھا ہے
تیری باتوں کا وہ دریا جو کبھی ختم نہ ہوا
میں نے خاموش لمحوں میں اسے زندہ رکھا ہے

نہ روک میری آنکھوں سے یہ بہتے ہوئے آنسو
یہ تیری چاہت کی گواہی لیے پھرتے ہیں
نہ سمجھ میرے دل کو بے خبر زمانے سے
یہ اب بھی تیری طلب میں دھڑکتا ہے

ہو، ہو، ہو…
اے مسافرِ دل، ٹھہر جا ذرا
اس سفر میں بھی ہے ایک جلوۂ خدا
بحر بھی، ریل بھی، بستی بھی، ستارہ بھی
سب میں چھپا ہے ایک ہی نورِ وفا

ہو، ہو، ہو…
مطرِ سحر ہو کہ شامِ غم
ہر منظر میں ہے اک پیغامِ کرم
جو دور گیا، وہ دل میں رہا
جو ٹوٹ گیا، وہ نغمہ بنا

پھر سمندر نے کہا، میں بھی دعا ہوں
ریل نے کہا، میں بھی صدا ہوں
ستاروں نے کہا، ہم بھی گواہ
اور بارش نے کہا، میں تری وفا ہوں

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI