موجود ۔۔ مفقود ہیں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

موجود ۔۔ مفقود ہیں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 7:08 · 5 plays

Lyrics

موجود بھی مفقود

موجود بھی مفقود ہے، آنکھوں کے سامنے
پھر بھی وہ دور لگے، لوگوں کے درمیان

چہرہ وہی سامنے، آواز بھی وہی ہے
پھر کیوں دلِ بےقرار کو، راحت کہیں نہیں ہے

رشتہ تو پاس ہے، احساس مگر دور ہے
سانسوں میں نام اُس کا، دل پھر بھی مجبور ہے

جس کو سمجھا تھا اپنا، وہ اپنا نہ بن سکا
قریب آ کے بھی وہ، دل میں نہ اتر سکا

ہاتھوں میں ہاتھ تھا، پھر بھی فاصلہ رہا
ساتھ چلتے ہوئے بھی، تنہا سفر رہا

باتیں تو بہت ہوئیں، پر دل نہ مل سکے
لفظوں کے ہجوم میں، جذبات کھو گئے

وہ سامنے کھڑا تھا، نظریں چرا گیا
موجود تھا وہ پھر بھی، جیسے کہیں چلا گیا

میں نے پکارا اُس کو، آواز لوٹ آئی
خاموش دیواروں سے، ٹکرا کے لوٹ آئی

کبھی جو ہنستا تھا وہ، میرے خیالوں کے ساتھ
آج وہ خاموش ہے، میرے سوالوں کے ساتھ

وہی راستے ہیں اب بھی، وہی پرانی یادیں
بس بدل گئی ہیں دل کی، ساری وہ کیفیتیں

میں نے سنبھالے رکھے، اُس کے دیے ہوئے لمحے
وقت لے گیا مجھ سے، خوشیوں کے سارے قصے

دل نے کہا ٹھہر جا، شاید بدل جائے وہ
وقت نے آہستہ کہا، خود کو سنبھال لے تو

جس کے لیے جیا تھا، وہ اجنبی سا ہے
دل میں قریب رہ کر بھی، مجھ سے دور سا ہے

یادیں تو ساتھ ہیں، وہ شخص ساتھ نہیں
آنکھوں میں روشنی ہے، پر کوئی بات نہیں

ہر روز یہی سوچا، شاید صدا آئے گی
خاموش دروازوں پر، پھر روشنی چھائے گی

پر انتظار بھی آخر، تھکنے لگا ہے اب
دل کا یہ ٹوٹا موسم، بدلنے لگا ہے اب

موجود بھی مفقود ہے، کیسا یہ امتحاں
آنکھیں اسے تو دیکھیں، دل ڈھونڈے بےنشاں

قربت بھی اک فریب ہے، دوری بھی اک حقیقت
جو پاس ہو کے کھو جائے، وہ درد ہے محبت

نہ اُس سے کوئی گلہ، نہ خود سے کوئی سوال
دل میں رہ گیا بس، اک خاموش سا ملال

وہ میرے سامنے ہے، پھر بھی میرا نہیں
یہ کیسی زندگی ہے، جس میں وہ میرا نہیں

اک نام لب پہ رہتا، اک درد دل میں ہے
وہ شخص موجود ہے، پر میری منزل میں نہیں

اب میں بھی چپ کھڑا ہوں، وہ بھی خاموش ہے
موجود دونوں ہیں، پر رشتہ بےآواز ہے

شاید یہی محبت کا، آخری رنگ ہے
جو پاس ہو کے بھی، دل سے بہت دور ہے

موجود بھی مفقود ہے، یہ راز رہ گیا
وہ سامنے تو تھا، مگر دل سے کھو گیا

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI