
میری کتاب میں تیرا نام۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
میرے کتاب میں تیرا نام
پہلی ملاقات کی وہ ساعت یاد رہی
دل کے خاموش دریچوں میں تیری آہٹ رہی
تیری آنکھوں میں چھپی معصوم سی دنیا دیکھی
خاموش ہونٹوں پہ محبت کی روشنی دیکھی
چند لمحوں کی رفاقت عمر بھر کی بات بنی
چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ایک حسین یاد بنی
راتوں کی گفتگو، تیرے دل کے افسانے
تیری باتوں میں چھپے تھے کئی انجان زمانے
معمولی سی باتوں سے تیرا دل گھبرا جاتا
میری ایک تسلی سے تیرا چہرہ مسکرا جاتا
تو اپنے ہاتھوں سے ورق کو آہستہ چھوتی
ہر نشانی پر اپنی محبت کی خوشبو چھوڑتی
میرے ورق میں تیرا نام لکھا ہے
ہر خاموش صفحے پہ تیرا پیغام لکھا ہے
وقت گزر بھی جائے، یادیں نہیں مٹتیں
دل کے اندر کچھ کہانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں
تیری خواہشیں، تیرے ڈر، سب یاد آتے ہیں
وہ چھپے ہوئے احساس آج بھی بلاتے ہیں
جس محبت کو لفظوں میں کہنا مشکل تھا
وہی احساس آنکھوں میں سب سے مکمل تھا
موسم بدل گئے، فاصلے بھی آ گئے
مگر تیرے ساتھ کے لمحے دل میں رہ گئے
میرے ورق میں تیرا نام لکھا ہے
ہر خاموش صفحے پہ تیرا پیغام لکھا ہے
وقت گزر بھی جائے، یادیں نہیں مٹتیں
دل کے اندر کچھ کہانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں