میں خود کو ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

میں خود کو ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 6:17 · 5 plays

Lyrics

‏میں خود کو ڈھونڈتا تھا
‏
‏تیری یادوں نے دل کی ہر دیوار کو خاموش ماتم بنا دیا
‏میرے ہنستے ہوئے چہرے کو بھی درد نے رُلا دیا
‏
‏میں نے تجھے اپنی دعا سمجھا
‏اپنی قسمت، اپنی وفا سمجھا
‏تو نے مگر میری چاہت کو
‏اک لمحے میں ہوا کر دیا
‏
‏میری ہر سانس تیرے نام رہی
‏میرا ہر خواب تیرے ساتھ رہا
‏مگر تیرے دل کے شہر میں
‏میرا کوئی نشان نہ رہا
‏
‏عشق کی راہوں میں چلتے چلتے
‏میں خود سے بھی دور ہو گیا
‏اپنی ہنسی، اپنی نیند، اپنا سکون
‏سب تیرے قدموں میں ہار گیا
‏
‏تیری خاموشی زہر بنی
‏تیری بے رخی سزا بن گئی
‏میں جیتا رہا تیری یادوں میں
‏اور دنیا میرے لیے اجنبی بن گئی
‏
‏اشک میری زبان بنے
‏درد میرا ہمراز بنا
‏ہر رات میری قسمت میں
‏تنہائی کا اک ساز بنا
‏
‏اب نہ کوئی شکوہ باقی ہے
‏نہ کوئی سوال باقی ہے
‏وقت نے سب کچھ سکھا دیا
‏بس ایک دل ہے... جو ابھی بھی تھکا ہوا ہے
‏
‏میں نے چاہت کو سجدہ سمجھا
‏تو نے اس کو کھیل سمجھا
‏میں نے عمر لٹا دی جس پر
‏اُس نے میرا درد بھی نہ سمجھا....میرے دل کی ہر دھڑکن نے
‏تیرا ہی نام پکارا تھا
‏میں نے جس کو اپنی دنیا جانا
‏اُس نے مجھے تنہا چھوڑا تھا
‏
‏اب یاد بھی آئے تو کیا حاصل
‏اب خواب بھی آئیں تو کیا حاصل
‏جو ٹوٹ گیا وہ ٹوٹ گیا
‏اب آنسو بہائیں تو کیا حاصل
‏
‏دل نے آخر یہ جان لیا
‏ہر چاہت اپنی نہیں ہوتی
‏ہر مسکراہٹ کے پیچھے بھی
‏اک خاموش اذیت ہوتی
‏
‏اب نہ کسی سے گلہ مجھے
‏نہ قسمت سے شکایت ہے
‏جو کچھ بھی تھا، گزر گیا
‏بس دل میں ایک حکایت ہے
‏
‏میں اپنی راہ کا مسافر ہوں
‏اب پیچھے مُڑ کر نہ دیکھوں گا
‏جو درد ملا، وہ میرا تھا
‏اُسے سینے میں ہی رکھوں گا
‏
‏اگر کبھی تیری یاد آئے
‏میں خاموشی اوڑھ لوں گا
‏نہ اشک بہاؤں گا آنکھوں سے
‏نہ دل کو پھر کمزور کروں گا
‏
‏وقت نے مجھ کو یہ سکھلایا
‏جو بچھڑ جائے، اُسے جانے دو
‏جو لوٹ کے آنا چاہے بھی
‏پہلے دل سے اُتر جانے دو
‏
‏اب نہ تجھے پکاروں گا
‏نہ خود کو آواز دوں گا
‏جو مر گیا تھا عشق میں
‏اُسے وہیں دفن رہنے دوں گا

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI