
میں خود کو ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
میں خود کو ڈھونڈتا تھا
تیری یادوں نے دل کی ہر دیوار کو خاموش ماتم بنا دیا
میرے ہنستے ہوئے چہرے کو بھی درد نے رُلا دیا
میں نے تجھے اپنی دعا سمجھا
اپنی قسمت، اپنی وفا سمجھا
تو نے مگر میری چاہت کو
اک لمحے میں ہوا کر دیا
میری ہر سانس تیرے نام رہی
میرا ہر خواب تیرے ساتھ رہا
مگر تیرے دل کے شہر میں
میرا کوئی نشان نہ رہا
عشق کی راہوں میں چلتے چلتے
میں خود سے بھی دور ہو گیا
اپنی ہنسی، اپنی نیند، اپنا سکون
سب تیرے قدموں میں ہار گیا
تیری خاموشی زہر بنی
تیری بے رخی سزا بن گئی
میں جیتا رہا تیری یادوں میں
اور دنیا میرے لیے اجنبی بن گئی
اشک میری زبان بنے
درد میرا ہمراز بنا
ہر رات میری قسمت میں
تنہائی کا اک ساز بنا
اب نہ کوئی شکوہ باقی ہے
نہ کوئی سوال باقی ہے
وقت نے سب کچھ سکھا دیا
بس ایک دل ہے... جو ابھی بھی تھکا ہوا ہے
میں نے چاہت کو سجدہ سمجھا
تو نے اس کو کھیل سمجھا
میں نے عمر لٹا دی جس پر
اُس نے میرا درد بھی نہ سمجھا....میرے دل کی ہر دھڑکن نے
تیرا ہی نام پکارا تھا
میں نے جس کو اپنی دنیا جانا
اُس نے مجھے تنہا چھوڑا تھا
اب یاد بھی آئے تو کیا حاصل
اب خواب بھی آئیں تو کیا حاصل
جو ٹوٹ گیا وہ ٹوٹ گیا
اب آنسو بہائیں تو کیا حاصل
دل نے آخر یہ جان لیا
ہر چاہت اپنی نہیں ہوتی
ہر مسکراہٹ کے پیچھے بھی
اک خاموش اذیت ہوتی
اب نہ کسی سے گلہ مجھے
نہ قسمت سے شکایت ہے
جو کچھ بھی تھا، گزر گیا
بس دل میں ایک حکایت ہے
میں اپنی راہ کا مسافر ہوں
اب پیچھے مُڑ کر نہ دیکھوں گا
جو درد ملا، وہ میرا تھا
اُسے سینے میں ہی رکھوں گا
اگر کبھی تیری یاد آئے
میں خاموشی اوڑھ لوں گا
نہ اشک بہاؤں گا آنکھوں سے
نہ دل کو پھر کمزور کروں گا
وقت نے مجھ کو یہ سکھلایا
جو بچھڑ جائے، اُسے جانے دو
جو لوٹ کے آنا چاہے بھی
پہلے دل سے اُتر جانے دو
اب نہ تجھے پکاروں گا
نہ خود کو آواز دوں گا
جو مر گیا تھا عشق میں
اُسے وہیں دفن رہنے دوں گا