
راز۔۔۔ رخصت ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
رازِ رخصت
آپ مجھے یاد نہ کرنا، اے میری جانِ وفا
جو ہوا، اُس کو بھلا دینا، یہی میری آخری صدا
میں تیری زندگی کا کبھی تاج نہیں تھا
بس میرا پاگل دل، تجھے اپنی سلطنت سمجھ بیٹھا تھا
میں نے تیرے نام کی خوشبو کو دل میں سجایا تھا
اپنی ہر سانس کو تیری یاد کا دیپ بنایا تھا
مجھ سے نہ ڈرنا، میری محبت کوئی سوال نہیں
یہ تو دل کا وہ راز ہے، جس کا کوئی زوال نہیں
میں یہ امانتِ عشق اپنے سینے میں چھپا لے جاؤں گا
خاموشیوں کی چادر اوڑھ کر دور نکل جاؤں گا
پھر کبھی پلٹ کر تیری دہلیز پہ نہ آؤں گا
اپنی ہی کہانی کا آخری ورق بن جاؤں گا
اتنا دور جاؤں گا، جہاں نشان بھی مٹ جائیں گے
میرے قدموں کے قصے بھی زمانے بھول جائیں گے
نہ میری صورت کا آئینہ تیرے سامنے آئے گا
نہ میرا نام کسی ہوا کے لبوں پہ گایا جائے گا
اگر کبھی رات کی تنہائی میں دل تجھے پکارے گا
تو صرف خاموشی کا ایک دریا نظر آئے گا
تو میری آواز کی خوشبو تلاش کرے گا زمانوں تک
مگر وہ خوشبو چھپ جائے گی فاصلے کے پردوں تک
میں ایک فقیرِ محبت تھا، خالی ہاتھ چلا جاؤں گا
تیری خوشیوں کی خاطر اپنا جہاں چھوڑ جاؤں گا
نہ کوئی شکوہ رہے گا، نہ کوئی گلہ رہے گا
میرے بعد بھی تیرے لیے دل میں دعا رہے گا
محبت کی اس محفل میں بس اتنا نام رہے گا
ایک دیوانہ تھا جو تجھے اپنا سمجھتا رہا
اور جب آخری ساز بجے گا خاموش راتوں میں
میرا راز سویا ہوگا میری ٹوٹی ہوئی باتوں میں
آپ مجھے یاد نہ کرنا...
جو ہوا اُسے بھول جانا...
میں محبت کا ایک چراغ تھا،
جل کر بھی تیری راہوں کو روشن کر جانا...