
ہماری ادھوری کہانی
Lyrics
ہماری محبت کی داستان تھی، مگر زخمِ جاں کی زباں بن گئی
تمہاری نگاہوں سے روشن سحر، میری تنہائی کا دھواں بن گئی
رقیبوں نے افسانہ ایسا بنایا کہ سچ بھی گماں بن گئی
تمہیں مجھ سے دور کیا، اور میری ہر دعا بے نشاں بن گئی
وہ شام تھی، اسٹیشن پہ بارش تھی، رخصت کا منظر بھیگتا رہا
تمہارا دوپٹہ ہوا میں لہرا کے، میری طرف کچھ کہتا رہا
میں ہاتھ بڑھاتا تو رسموں کا پہرا ہمارے بیچ کھڑا رہا
تم آنکھ جھکائے چلتی رہیں، میرا دل وہیں پر گرا رہا
تمہارے نام کی چٹھی میں نے برسوں چراغوں کے پاس رکھی
ہر ایک سطر میں اپنی ہنسی، ہر ایک حرف میں پیاس رکھی
جو لوگ تمہیں مجھ سے چھینے، انہیں میں نے بے آس رکھی
میں نے محبت کو سچ جانا، انہوں نے اسے اک قیاس رکھی
تمہاری گلی سے گزرتا ہوں تو کھڑکی کی خاموشی بولتی ہے
وہ نیم کا پیڑ، وہ ٹوٹی سی منڈیر، پرانی کہانی کھولتی ہے
جہاں تم نے ہنس کر کہا تھا، “کبھی دل نہ بدلنا، سنو”
وہی بات اب رات کے سینے میں کانٹے کی صورت چبھتی ہے
میں نے تمہارے بعد بھی دنیا کے سب فرض نبھائے ہیں
چہرے پہ ہنسی کے روشن پردے، اندر زخم چھپائے ہیں
لوگوں نے پوچھا، “وہ کیسی تھی؟” میں نے بس اتنا کہا
کچھ لوگ بچھڑ کر بھی دل کے اندر گھر بنائے ہیں
تمہیں بھی شاید کسی نے میری وفا کے خلاف کہا
میری خاموشی کو غرور، میری چاہت کو خطا کہا
کاش تم ایک بار پلٹ کے میری آنکھوں میں پڑھ لیتیں
وہاں ہر جھوٹ کے نیچے تمہارا ہی نام لکھا
اب چاند نکلتا ہے تو چھت پر تمہاری یاد اترتی ہے
رات کی ٹھنڈی چادر میں اک جلتی ہوئی آہ بکھرتی ہے
میں نیند کے دروازے تک جاتا ہوں، مگر لوٹ آتا ہوں
خوابوں میں تم ملتی ہو، صبح تمہاری کمی سنورتی ہے
اگر کبھی ملیں تو کوئی شکوہ لبوں تک نہ آنے دینا
بس ایک نظر سے میرے برسوں کے زخم پہچان لینا
میں وہی ہوں، جس نے جدائی کو بھی تمہارا نام دیا
تم چاہو تو خاموشی میں میرا ہاتھ تھام لینا
یہ عشق کوئی قصہ نہیں، میری سانسوں کی سچائی ہے
تم سے دوری میری قسمت کی سب سے گہری تنہائی ہے
جو لوگ ہمیں جدا کر کے سمجھے، جیت گئے آخر
انہیں کیا خبر، میری ہار میں بھی تمہاری پرچھائی ہے
اب آخری خط لکھتا ہوں، مگر بھیجوں گا نہیں اسے
اس میں وہ سب کچھ کہہ دوں گا، جو کہہ پایا نہیں تم سے
تم خوش رہو، یہی دعا ہے، چاہے دل ٹوٹے میرا
محبت تمہاری تھی، تمہاری ہے—کیا کہوں زمانے سے
کبھی ہوا تمہارے شہر سے میری کھڑکی تک آئے
تو کہنا، ایک دل ہے جو اب بھی تمہیں بلائے
فاصلوں نے جسم جدا کیے، چاہت جدا نہ کر پائی
ہماری ادھوری کہانی کو کوئی پھر سے گائی