ٹوٹے ہوئے خوابوں کی بارش ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی بارش ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated EDM song · 4:38 · 0 plays

Lyrics

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی بارش

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی بارش میں بھیگتے رہے،
تیری یاد کے دیے رات بھر جلتے رہے،
ہم نے چاہا تھا کہ موسم ہمارا ہو جائے،
مگر خزاں کے قدم گھر میں اترتے رہے۔

دل نے ہر موڑ پہ تیرا ہی پتا پوچھا،
چاند سے، رات سے، خاموش ہوا سے پوچھا،
کس طرف جاتی ہیں بچھڑے ہوئے لوگوں کی راہیں—
ہم نے ٹوٹے ہوئے ستاروں سے بھی پوچھا۔

تیری آنکھوں میں جو اک شہر بسایا تھا،
وہی شہر میری پلکوں سے اتر آیا تھا،
اب وہاں شام کی کھڑکی پہ دھواں رہتا ہے،
جہاں کل پیار نے اک دیپ جلایا تھا۔

میری امید کا کاغذ بھیگ کر گلنے لگا،
تیرے وعدے کا ہر اک رنگ اترنے لگا،
میں نے سینے میں چھپا رکھے تھے جو موسم،
ان میں خاموشی کا پتھر سا جمنے لگا۔

رات بھر خود سے تیری بات کیا کرتا ہوں،
بند کمرے میں تیرا نام لیا کرتا ہوں،
میری تنہائی کے ہاتھوں میں لکیریں ہیں کئی—
ہر لکیر میں تجھے ڈھونڈ لیا کرتا ہوں۔

تو گیا، پھر بھی تیری آہٹیں گھر میں ٹھہریں،
جیسے ویران حویلی میں صدائیں ٹھہریں،
میں نے دروازے پہ رکھ چھوڑی ہے اک لو اب تک،
شاید لوٹیں کبھی وہ راہیں جو بکھریں۔

ایک تصویر تھی، پانی میں بہا دی میں نے،
تیری خوشبو بھی کتابوں سے مٹا دی میں نے،
پر جو دل میں تیری یاد کا موسم ٹھہرا—
اس کی ہر بوند کو پلکوں میں چھپا لی میں نے۔

ہم نے چاہا تھا کہ دکھ کو بھی غزل کر ڈالیں،
آنسوؤں کو تیری چوکھٹ کا کنول کر ڈالیں،
پر یہ دل ہے کہ ہر اک درد سنبھال رکھتا ہے—
ہم تجھے بھول کے خود کو بھی غزل کر ڈالیں؟

اب نہ شکوہ ہے، نہ ملنے کی تمنا باقی،
بس تیرے نام سے اٹھتی ہے دعا سی باقی،
میرے اجڑے ہوئے خوابوں کی راکھ میں اب بھی—
ایک چھوٹی سی چمک، ایک کرن سی باقی۔

جب کبھی چاند تیرے شہر کی چھت چھوتا ہے،
میرا سویا ہوا درد پھر سے جاگ اٹھتا ہے،
میں ہوا سے تیرا حال نہیں پوچھتا اب—
بس تیرا نام میرے ہونٹوں پہ کانپ اٹھتا ہے۔

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI