اقرار نہیں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

اقرار نہیں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 5:15 · 0 plays

Lyrics

مجھے اب کہیں قرار نہیں

ترے بعد زندگی سے کوئی رابطہ نہیں
مرے دل میں اب کسی خوشی کا راستہ نہیں
میں جس طرف بھی دیکھوں، تری کمی ملے
ترے بغیر اس جہاں میں میرا کچھ رہا نہیں

میں اپنی ذات سے بھی اجنبی سا ہو گیا
تری جدائی میں ہر خواب کھو گیا
جو شخص کل تلک زمانے میں ہنستا تھا
وہ آج اپنے ہی سائے سے ڈر گیا

مجھے نہ پوچھ میرے درد کی انتہا کہاں
یہ وہ سفر ہے جس کی کوئی منزل ہی نہیں
میں چل رہا ہوں مگر یہ خبر نہیں مجھے
کہ میرے سامنے اب کوئی راستہ نہیں

تری نظر سے جو اک بار زندگی ملی
اسی نظر کے بعد ہر خوشی کھو گئی
میں تجھ کو چاہ کے بھی اپنا نہ کر سکا
مری وفا بھی آخر میرے کام نہ آئی

نہ اب کسی سے ملنے کی آرزو رہی
نہ محفلوں میں بیٹھنے کی جستجو رہی
جہاں بھی لوگ محبت کے گیت گاتے ہیں
وہیں مری خاموشی کی صدا رہی

تو اپنے حصے کی خوشیوں میں مسکرا لینا
مرے نصیب کی راتوں کو بھول جانا
میں اپنی ہار کو قسمت سمجھ کے جی لوں گا
تو میرے نام سے اپنا سکون نہ کھونا

یہ کون جانتا ہے کہ عشق کیا شے ہے
یہ آگ جسم نہیں، روح تک جلاتی ہے
جسے بھی دل سے چاہو وہ ملے ضروری نہیں
یہ زندگی بھی عجب فیصلے سناتی ہے

میں اپنے زخم زمانے سے چھپائے رکھوں
ترے خیال کو سینے میں بسائے رکھوں
نہ کوئی شکوہ کروں گا، نہ تجھ سے کچھ مانگوں
بس اپنی عمر تری یاد میں گزارے رکھوں

اگر کبھی مری آواز تجھ تلک پہنچے
تو سمجھنا کوئی ٹوٹا ہوا سا خواب ہے
میں آج بھی وہیں ہوں جہاں تجھے چاہا تھا
مرے وجود پہ بس تیرا ہی عذاب ہے

اب اس جہاں میں مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے
نہ کوئی خواب، نہ منزل، نہ روشنی چاہیے
تو خوش رہے، یہی میری آخری چاہت ہے
مجھے اب اپنی محبت کا بھی صلہ نہیں چاہیے

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI