تم میرے اندر آباد ہو... شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

تم میرے اندر آباد ہو... شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 5:07 · 0 plays

Lyrics

میں تمہیں لوگوں کے ہجوم میں نہیں ڈھونڈتا
میں اپنے دل کی ویرانی میں ڈھونڈتا ہوں
جہاں ہر خاموش دھڑکن تمہارا نام لکھتی ہے
جہاں تنہائی بھی تمہاری خوشبو سے مہکتی ہے

تم میرے اندر کہیں یوں آباد ہو
جیسے شبنم میں کوئی خواب جاگتا ہو
میں آنکھیں بند کروں تو تم سامنے آؤ
میں لب کھولوں تو ہر لفظ تمہارا ہو

جہاں آرزو کے چراغ جلتے رہتے ہیں
وہیں تمہاری یاد کے سائے پلتے رہتے ہیں
نہ کوئی فاصلہ ان کو بجھا سکتا ہے
نہ وقت کے ہاتھ انہیں چھو سکتے ہیں

تمہاری یاد میرے دل کی وہ صدا ہے
جو شورِ جہاں میں بھی سنائی دیتی ہے
میں خود سے بات کروں تو تم بولتے ہو
میری ہر خامشی تمہیں دہراتی ہے

شبِ ہجر نے لاکھ اپنا جادو چلایا
مگر عشق نے ہر اندھیرا مٹا ڈالا
تم دور رہے، پھر بھی دل کے قریب رہے
یہ کیسا رشتہ ہے جسے غم نے بھی نہ توڑا

میں نے ہر موڑ پہ تمہارا پتا پوچھا
اپنی ہی روح کے در سے تمہیں پایا
تم میرے اندر کی دھڑکن میں چھپے ہو
میں نے تمہیں کھو کر بھی کبھی نہ کھویا

چاند کھڑکی پہ اترے تو تم یاد آتے ہو
بارش کے ہر قطرے میں تم مسکراتے ہو
ہوا جب میرے بالوں کو چھو کر گزرے
میں سمجھوں تمہارا ہاتھ مجھے چھو گیا ہو

یہ دل کوئی ویران مکان نہیں اب
تمہاری یاد سے اس میں چراغاں ہے
ہر کمرے میں تمہاری آواز ٹھہری
ہر دیوار پر عشق کا اک نام لکھا ہے

تمہارا نہ ہونا بھی تمہارا ہونا ہے
یہ درد بھی دل کا کوئی زیور سا ہے
میں جتنا تم سے دوری کو اوڑھتا ہوں
اتنا ہی تم میرے قریب آتے ہو

اب ڈھونڈنے تمہیں کہیں اور نہیں جاؤں
تم دل میں ہو، میں دل سے کہاں جاؤں
جہاں شوق کی لو ہے، وہیں تم رہو گے
جہاں میں ہوں—وہاں غیاب کیا جیت پائے گا؛

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI