
ہم شعر لکھتے ہیں.. شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
ہم شعر لکھتے ہیں—شاید تمہیں یاد کرنے کو،
یا دل کے پرانے زخموں کو ذرا سلانے کو،
رات چپ چاپ کھڑکی پر چاند رکھ جاتی ہے،
اور میں لفظ چنتا ہوں تم تک آ جانے کو۔
سب سے مشکل گھڑی وہ ہے جب جدائی لکھوں،
اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کی گواہی لکھوں،
آنکھ سے گرتا ہوا اشک سیاہی بن جائے،
اور میں کاغذ پہ تمہاری بے وفائی لکھوں۔
میرے آنسو ہی مرے لفظوں کا روشنائی ہیں،
میرے اشعار میں چھپی تمہاری تنہائی ہے،
ہر ورق پوچھتا ہے، لوٹ کے آؤ گے کیا؟
خامشی ہونٹ سلے، دل میں مگر دہائی ہے۔
محبت کے یہ صفحے اب یتیموں جیسے،
بے چراغوں کے کسی شہر کے موسم جیسے،
تیرا نام آئے تو دھڑکن بھی ٹھہر جاتی ہے،
اور دن ڈھلتے ہیں ویران سے ماتم جیسے۔
تم گئے، شام نے رنگوں کو بجھا ڈالا ہے،
چاند نے بھی مرے آنگن سے منہ پھیر لیا ہے،
میں نے ہر موڑ پہ آواز تمہاری دی ہے،
کوئی لوٹا نہیں، بس دل نے صدا دی ہے۔
کاش اک بار تم آ کر یہ کہانی سن لو،
میرے اشکوں کی زباں، میری روانی سن لو،
جس محبت کو زمانے نے بھلا رکھا ہے،
اس کے سینے میں ابھی سانس پرانی سن لو۔
تیری تصویر سے کرتا ہوں میں باتیں اکثر،
رات بھر جاگتے رہتے ہیں مرے خواب و نظر،
تیری خوشبو ابھی تک مرے کمرے میں ہے،
جیسے بارش کے بعد مہکے کوئی راہگزر۔
دل کے دریا میں ابھی موج تمہاری باقی،
سوکھے ہونٹوں پہ دعاؤں کی پکاری باقی،
تم نہ آئے تو بھی امید کا دیا جلتا ہے،
رات باقی ہے، ابھی صبح ہماری باقی۔
لوٹ آؤ کہ یہ موسم بھی بدل سکتا ہے،
ٹوٹا دل پھر سے محبت میں سنبھل سکتا ہے،
ایک لمحہ جو تمہارا مرے حصے آ جائے،
میرا ہر درد نئے گیت میں ڈھل سکتا ہے۔
ہم شعر لکھتے ہیں، تمہیں بھولنے کے لیے،
پھر تمہارا ہی تصور ہے ہر اک مصرعے میں،
اشک روشنائی، ورق عشق کے یتیم سہی—
تم ابھی زندہ ہو میرے دل کے ہر نغمے میں۔