
ظاہر تو دیکھا ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
ظاہر تو دیکھا، دل کے اندر کیا تھا نہ دیکھا
لبوں پہ ہنسی تھی، آنکھ میں دریا نہ دیکھا
ہم ایک عمر ترے شہر میں بھٹکتے رہے
تو نے پلٹ کے کبھی اپنا سایہ نہ دیکھا
تری نگاہ نے محفل کو چاند کر ڈالا
مرے نصیب کا بجھتا چراغ نہ دیکھا
میں تیرے نام کی خوشبو لیے پھرا ہر سو
تو نے ہوا میں مرا کوئی پیغام نہ دیکھا
جو دل میں درد تھا، لفظوں میں ڈھل نہ پایا
جو زخم کھل نہ سکا، اس کا داغ نہ دیکھا
ہم اپنے حال پہ ہنس کر بھی روئے جاتے تھے
کسی نے آ کے ہمارا سراغ نہ دیکھا
ترے فراق کی شب یوں طویل ہوتی گئی
کہ صبح نے بھی دریچے سے جھانکنا چھوڑا
میں اپنے خواب کی بستی میں لوٹ آیا تھا
مگر وہاں بھی ترے بعد کچھ نہ تھا، نہ دیکھا
وہ ایک لمحہ کہ جب تو قریب تھا میرے
تمام عمر کا حاصل اسی گھڑی میں تھا
تری نگاہ سے روشن تھا میرا سارا جہاں
مگر تو نے مری آنکھوں کا آئینہ نہ دیکھا
میں اپنے دل کو ترے نام سے بہلاتا رہا
یہ اور بات کہ تو نے صدا نہ سنی
ہر ایک سانس میں اک نام گونجتا تھا مرے
تری گلی نے مگر میری التجا نہ سنی
یہ عشق بھی عجب آہستہ آہستہ آیا
کہ جیسے شام میں خوشبو اترتی جاتی ہے
پھر ایک روز ترے ہجر نے یہ حال کیا
کہ میری ذات مجھے بھی نہیں دکھائی دی
گزر گئے کئی موسم تری امید لیے
چراغِ شوق کو سینے میں ہم جلاتے رہے
تو ایک بار بھی آیا نہیں خبر لینے
ہم اپنے اشک کو پلکوں پہ مسکراتے رہے
اب اس گلی سے گزرنا بھی اک قیامت ہے
ہر ایک موڑ پہ اک یاد سر اٹھاتی ہے
میں سر جھکا کے گزرتا ہوں، اس لیے شاید
ترے مکان کی کھڑکی نظر نہیں آتی ہے
ظاہر تو دیکھا، دل کے اندر کیا تھا نہ دیکھا
مرے خموش تبسم کا قصہ نہ دیکھا
میں تیرے عشق میں مٹ کر بھی تجھ سے دور رہا
تو نے قریب آ کے بھی میرا ہونا نہ دیکھا