
مرے عشق ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
---
ہم نے تری چاہت کو زندگی نہیں، سزا سمجھا
اپنے لہو میں ڈوبی ہوئی اک دعا سمجھا
تو جو ملا تو دل نے اسے نورِ سحر جانا
اور جب چھوٹا، تو عشق کو اپنا خدا سمجھا
تیری نگاہ نے مجھ میں وہ آگ سی روشن کی
جس نے ہر ایک خواب کی لاش مرے اندر رکھی
میں نے چاہا تھا کہ تجھ میں اپنی بقا ڈھونڈوں
پر تری دوری نے ہر سانس پہ خنجر رکھ دیے
یہ عشق نہیں تھا، یہ تو اک خاموش سی قتل گاہ تھی
جہاں ہر دھڑکن تری یاد کے ہاتھوں میں ذبح ہوتی رہی
میں نے ہنس کر بھی تری یاد کے زہر کو پی لیا
اور میری روح تری جدائی میں آہستہ آہستہ سوگ ہوتی رہی
تو نے پلکیں جھپکائیں، اور زمانہ بدلتا گیا
میں ذرا سا ٹوٹا، تو اندر کا خدا جلتا گیا
تیری خاموشی نے مجھ کو وہ عمر بھر کا ماتم دیا
جیسے شمع کے دل میں کوئی تیز ہوا چلتا گیا
ہر رات تری یاد نے مجھ سے یہ حق چھین لیا
کہ میں اپنے ہی دل میں ذرا دیر کو جی بھی لوں
تیرے ہجر نے میری ہستی پہ وہ دستخط ثبت کیے
کہ اب آئینے میں بھی خود کو دیکھوں تو مر بھی لوں
میں نے تیری محبت کو عبادت کی طرح رکھا
اپنی نیندیں، اپنی خوشیاں، سب قربان کیا
پر تو نے ایک نظر بھی پلٹ کر نہ دیکھا کبھی
اور میں نے اپنی روح کو تیری دہلیز پہ قربان کیا
یہ عشق اگر عشق تھا، تو پھر موت سے بدتر تھا
کیوں کہ اس میں ہر لمس کے بعد بھی فاصلہ رہتا تھا
میں تری یاد کی آگ میں جلتا رہا بے آواز
اور میرا نام بھی میری ہنسی کے ساتھ دفن ہوتا تھا
تو آ بھی جا، اگر آنا ہے تو بس آخری بار
اس سے پہلے کہ یہ دل خود اپنے لہو میں ڈوب جائے
میں نے تیرے بغیر جینا بھی سیکھ لیا، مگر
یہ سیکھنا بھی تیری یاد میں ایک اور موت بن جائے
اگر تو لوٹ آئے، تو شاید زخم ہنس پڑیں
ورنہ یہ سانسیں بھی تری یاد میں بکھر پڑیں
میں نے تجھ سے محبت نہیں، اپنی تباہی مانگی
اور یہ تباہی بھی ایسی، کہ صدیوں میں نہ سنبھل پڑیں
مرے عشق، مرے قاتل، مرے درد کے معبود
میں نے تیری جدائی کو اپنی تقدیر لکھا
اب جو بھی لفظ لکھوں، اس میں خون کی مہک ہے
کیونکہ تیری محبت نے مجھے اندر سے ہی قتل لکھا
--