صدا ۔۔ مجید ۔ کے ۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

صدا ۔۔ مجید ۔ کے ۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 5:17 · 0 plays

Lyrics

اشاروں سے الوداع کہہ کر وہ رخصت ہوئے ہم پلکوں پہ شامِ ہجر لیے رہ گئے دور تک اُن کے قدموں کی آہٹ رہی اور آنسو انہیں نام لے کر پکارتے رہے

کاش اُس موڑ پر سانس ٹھہر جاتی کاش تقدیر کی گھڑی بھی بکھر جاتی وہ جو اک بار پلٹ کر ہمیں دیکھ لیتے دل کی ویران بستی ذرا سنور جاتی

شام ڈھلتی رہی، راستہ جلتا رہا چاند بادل کے پیچھے کہیں چھپتا رہا ہم نے ہر سمت اُن کا پتا پوچھا مگر خامشی کا سمندر ہی پھیلتا رہا

اُن کے ہاتھوں میں تھی آخری روشنی ہم نے آنکھوں میں رکھ لی وہی روشنی وہ گئے تو زمانہ بھی جاتا رہا دل میں باقی رہی بس اُنہی کی کمی

ہجر کی رات نے جب ہمیں گھیر لیا یاد نے آ کے دامن ہمارا لیا ہم نے چاہا کہ دل کو سنبھالیں مگر دل نے ہر بار اُن کا سہارا لیا

ایک وعدہ تھا، خوشبو کی صورت کہیں ایک چہرہ تھا، خوابوں کی صورت کہیں اب بھی تنہائی میں اُن کا ذکر آئے تو درد کھلتا ہے پھولوں کی صورت کہیں

ہم نے اشکوں سے لکھا اُن کا نامِ وفا مٹ نہ پایا مگر درد کا ماجرا جس طرف بھی نگاہِ تمنا گئی سامنے آ گیا اُن کا نقشِ پا

کاش کہہ دیتے ہم، مت چلے جائیے دل کے آنگن میں کچھ دیر ٹھہر جائیے ہم تو آواز دیتے رہے رات بھر آپ خاموشیوں میں کہاں کھو گئے

اب نہ شکوہ زباں پر، نہ فریاد ہے دل میں بس ایک ٹوٹی ہوئی یاد ہے وہ جہاں بھی رہیں، خوش رہیں عمر بھر یہ محبت کی آخری دعا ہے

اشاروں سے کہی تھی جو باتِ وداع وہی بن گئی عمر بھر کی صدا مجیدؔ کے دل کی مانند یہ دل بھی اب عشق میں مسکرا کر ہوا مبتلا

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI