یاد رکھنا ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

یاد رکھنا ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Rock song · 5:22 · 0 plays

Lyrics

میرے درد کو یاد رکھنا، جب شام ڈھلے کہیں
جب چاند کسی ٹوٹے ہوئے دل سے بات کرے
جب نیند تری آنکھوں میں آ کر بھی نہ ٹھہرے
میرا بھی خیال آئے، کوئی آہ صدا دے

میں نے ترے نام کی خوشبو کو بچا رکھا
ویران سے کمرے میں چراغوں کی طرح بھی
تو دور سہی، دل سے مگر دور نہیں ہے
ہر سانس میں رہتا ہے ترا نقش ابھی بھی

اک شہرِ تمنا تھا، جہاں ہم بھی ملے تھے
اک راہ تھی، جس راہ پہ خوابوں کے شجر تھے
اب دھول ہے، خاموشی ہے، بکھرے ہوئے لمحے
پر دل میں ترے وعدوں کے کچھ پھول ہرے تھے

تو ہنس کے جو دیکھے تو بہاریں سی اتر آئیں
تو روٹھ کے جائے تو خزاں دل میں بسی ہے
آنکھوں میں تری یاد کے تارے ہیں ابھی تک
اور رات مرے بسترِ تنہائی پہ ٹھہری ہے

کیا کہیے کہ کس طور یہ دل ہار گیا ہے
اک نام کی دہلیز پہ سو بار گیا ہے
میں خود سے بھی ملتا ہوں تو پہچان نہیں پاتا
تیرا جو تصور مرے اندر اتر آیا ہے

وہ خط جو ترے ہاتھ سے آیا تھا کبھی بھی
اب تک مری کتابوں میں مہکاتا ہے ورق کو
لفظوں میں ترے لمس کی گرمی ہے ابھی تک
پڑھتا ہوں تو چھو جاتا ہوں بیتے ہوئے وقت کو

دریا کی طرح آنکھ سے خاموش بہا ہوں
صحرا کی طرح پیاس کو سینے میں چھپائے
لوگوں نے سمجھا ہے کہ سکوں ہے مرے چہرے پر
کیا جانیں کہ دل روز ترے نام پہ آئے

اک بار پلٹ آ، کہ ابھی شمع جلی ہے
اک بار صدا دے، کہ سماعت مری جاگے
یہ دل ہے کہ ہر آہٹ پہ دروازہ کھلا رکھے
شاید تری آمد سے یہ ویرانہ بھی جاگے

میں نے تجھ سے چاہا تھا، کوئی شرط نہیں تھی
بس اتنی تمنا تھی کہ تو ساتھ رہے گا
اب تو مری تنہائی بھی کہتی ہے یہی بات
جو درد دیا تو نے، وہی پاس رہے گا

جب خاک میں مل جائے گا یہ جسمِ فسانہ
تب بھی مری چاہت کا نشاں مٹ نہ سکے گا
میرے درد کو یاد رکھنا، اے جانِ تمنا
یہ درد ترے عشق کا چرچا ہی رہے گا

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI