
تیری یاد کا زہر ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
تیری یاد کا زہر
تیری یاد کا زہر رگوں میں اترتا رہا
میں ہنستا رہا، دل مگر ٹوٹتا رہا
محفل میں لبوں پر ترے نام کی پیاس
اک جام مرے ہاتھ سے چھوٹتا رہا
فاصلے بڑھتے رہے، ہم سفر ہوتے رہے
ہم بچھڑ کر بھی رہے ایک دُعا کی جگہ
تو کسی اور کے آنگن میں چراغاں ہوا
میرے حصے میں رہی تیرگی کی جگہ
رات بھر چاند سے تیرا پتا پوچھتا ہوں
بند کھڑکی کے پار اک صدا پوچھتا ہوں
جس گھڑی تو نے کہا تھا کہ بھلا دوں تجھے
آج تک خود سے اسی کی سزا پوچھتا ہوں
تیری دہلیز پہ اب بھی مری آہٹ ہوگی
سوکھے پھولوں میں کہیں تیری خوشبو ہوگی
تو نے مڑ کر نہ دیکھا، یہ شکایت بھی نہیں
بس تری راہ میں آنکھوں کو تھکن ہوگی
میں نے ہر زخم کو خاموشی سے پالا ہے
تیری تصویر کو سینے سے نکالا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ وقت سبھی بھر دیتا ہے
وقت نے درد کو بس اور اُجالا ہے
جام خالی ہے مگر آنکھ میں دریا سا ہے
دل کے ویران مکاں میں ترا سایہ سا ہے
ہونٹ خاموش ہیں، سانسوں میں قیامت سی
نام تیرا مری دھڑکن کا وظیفہ سا ہے
تو جہاں ہے، وہاں خوشیوں کے خزانے ہوں گے
میرے خوابوں کے مگر ٹوٹے زمانے ہوں گے
تجھ کو معلوم نہیں، تیرے چلے جانے سے
کتنے آباد دلوں میں بھی ویرانے ہوں گے
صبح آتی ہے مگر رات نہیں جاتی ہے
دل کی دہلیز سے برسات نہیں جاتی ہے
میں نے چاہا کہ ترے غم کو بھلا دوں لیکن
تیری یادوں کی ملاقات نہیں جاتی ہے
یہ محبت بھی عجب قرض ہے، اترتا ہی نہیں
دل کسی اور کی چوکھٹ پہ ٹھہرتا ہی نہیں
تو نے جو نام مرے دل پہ لکھا تھا اک بار
وقت کی بارش سے وہ حرف بکھرتا ہی نہیں
منزلیں اپنی جگہ، لوگ بھی مل جائیں گے
راستے اپنے نئے موڑ پہ لے جائیں گے
پر جو اک شخص رگِ جاں میں اتر جائے کبھی
اس کے بچھڑنے کے موسم کہاں جائیں گے