خاموشی... شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

خاموشی... شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 5:04 · 0 plays

Lyrics

ہمارے درمیان یہ خاموشی کتنی گہری ہے
جیسے کسی ویران گھر میں شام ٹھہری ہے
تم سامنے ہو، پھر بھی ہاتھ خالی ہیں
یہ قربت بھی کیا عجیب بےخبری ہے

میں تم سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈوں
تم اپنی پلکوں میں دروازے بند رکھو
ایک لفظ آئے تو شاید رات کٹ جائے
مگر تم اپنے لبوں پہ پہرے سخت رکھو

کبھی جو ہنس پڑیں ہم، وہ دن کہاں گئے
وہ بےسبب سے قہقہے، وہ خواب کہاں گئے
اب ایک ہی کمرے میں دو زمانے ہیں
بتاؤ، ہم سے ہمارے جواب کہاں گئے

تمہارے بعد بھی دل تمہارا ہی رہا
یہ اور بات کہ اس نے تمہیں کہا نہیں
میں روز اپنے ہی اندر سے لوٹ آتا ہوں
کوئی سفر تھا جس کا راستہ رہا نہیں

تمہاری یاد نے چپ چاپ یہ کیا مجھ پر
میں اپنے آپ سے ملتا ہوں، اجنبی بن کر
جو درد تھا، وہ تمہارا نام لے کے جاگا
میں مسکرا بھی نہ پایا اسے چھپا کر

کسی فلم کے منظر کی طرح لگتا ہے
یہ الوداع بھی جیسے ابھی ہوا ہی نہیں
تم جا چکے ہو، مگر دل کی اس گلی میں
تمہارے قدموں کا شور اب تک تھما ہی نہیں

میں نے چاہا تھا تمہیں، اس قدر سادگی سے
جیسے بچہ کوئی بارش کو دعا سمجھتا ہے
تم نے دیکھا بھی تو شاید گزرنے کی طرح
اور یہ دل تمہیں اپنا خدا سمجھتا ہے

اب ایک میز، دو چائے، مگر تم نہیں
کھڑکی پہ دھوپ ہے، کمرے میں روشنی نہیں
وہ کپ ابھی بھی تمہاری طرف رکھا ہے
میں جانتا ہوں، مگر اسے اٹھاتا نہیں

اگر کبھی تمہیں میری کمی ستائے
تو رات کے کسی پہر میرا نام لینا
میں شاید جاگ رہا ہوں گا اپنے دکھ کے ساتھ
تم چاہو تو خاموشی میں مجھے پکار لینا

ہمارے درمیان یہ خاموشی رہے گی
مگر اس میں میری دھڑکن بھی سنائی دے گی
تم لوٹ آؤ، تو شاید کچھ نہ کہہ سکیں
بس آنکھ ملے گی—اور بات ہو جائے گی

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI